پسنی میں پانی کا بحران اور شادی کور ڈیم کی تعمیر میں تاخیر

میرانی ڈیم کا ایک منظر

میرانی ڈیم کا ایک منظر

پسنی ماہی گیروں کی قدیم بستی ہے جو صدیوں سے بحرِ بلوچ کے ساحل کنارے آباد ہے ۔ آج یہ بستی شہر بن چکی ہے اور اس کی آبادی ایک لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے۔ لیکن پسنی میں عام شہری سہولیات کا شدید فقدان ہے اور گزشتہ کئی دہائیوں سے شہر کو پانی کے بحران کا سامنا ہے۔ موسمِ گرما میں یہ بحران شدت اختیار کر لیتا ہے ۔

شہر کے لئے 1971 میں واٹر سپلائی کا نظام مکمل ہوا تھا ۔ اس وقت پسنی کی آبادی 10 ہزار کے لگ بھگ تھی۔ آج بھی شہر میں پانی کی ترسیل کے لئے وہی 44 سال پرانا نظام چل رہا ہے جبکہ آبادی 10 ہزار سے بڑھ  کر ایک لاکھ تک جا پہنچی ہے۔ اردگرد کے دیہات سے روزگار اور مواقع کی تلاش میں پسنی آنے والوں کی وجہ سے  شہر کی آبادی بدستور بڑھتی چلی جا رہی ہے۔

ماضی میں پانی کا بحران حل کرنے  کے لئے شادی کور کے مقام پر نیا شادی کور ڈیم بنانے کی بات کی گئی۔ یہ ڈیم پسنی سے 45 کلومیٹر دور ضلع کیچ کے علاقے شادی کور میں دو ندیوں 'بحری ندی 'اور 'شادی کور ندی 'کے درمیان بنایا جا رہا ہے۔ ڈیم پر اندازا 3 ارب روپے کی لاگت آئے  گی۔ ابتدائی پلان کے مطابق اس ڈیم کو 3 سال پہلے مکمل ہو جانا چاہئیے تھا مگر یہ ابھی تک نامکمل ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ سیکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر پچھلے کچھ مہینوں سے ڈیم پر کام بند پڑا ہے۔ اس کے علاوہ ڈیم کی تعمیر میں فنڈز کی کمی بھی وجہ بتائی جاتی ہے۔

شادی کور ڈیم اپنی تعمیر مکمل ہونے پر مکران کا دوسرا بڑا آبی ذخیرہ ہو گا۔ فی الحال مکران کا سب سے بڑا آبی ذخیرہ میرانی ڈیم ہے جو کہ ضلع کیچ میں واقع ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ شادی کور ڈیم سے نہ صرف پسنی میں پانی کا بحران ختم ہو جائے گا بلکہ ڈیم کے قرب و جوار میں 7600 ایکڑ اراضی بھی قابلِ کاشت ہو گی ۔ یہ بھی متوقع ہے کہ مستقبل میں میگا سٹی گوادر کو بھی اسی ڈیم سے پانی مہیا کیا جائے گا۔

محکمہ پبلک ہیلتھ کا کہنا ہے کہ شادی کور ڈیم مکمل ہونے کے بعد ڈیم سے محکمے کو 17.5 کیوسک یعنی 40 لاکھ گیلن پانی ہر گھنٹے دیا جائے گا۔ یہاں یہ نوٹ کرنا ضروری ہے کہ اس وقت شہر کی روزانہ پانی کی طلب 18 لاکھ گیلن ہے۔

اومان نے پسنی میں پبلک ہیلتھ سسٹم کو بہتر بنانے کے لئے خطیرگرانٹ دی ہے ۔62 ملین روپے کی مالیت کی اس گرانٹ سے شادی کور ڈیم اور پسنی شہر کے درمیان مین پائپ لائنوں کی بچھائی، انڈر گراؤنڈ واٹر ٹینکی اور ڈسٹری بیوشن پائپ لائنوں کی تعمیر ہو رہی ہے۔ انڈر گراؤنڈ واٹر ٹینکی شہر کے اندر پانی کی ڈسٹری بیوشن کے لئے استعمال ہو گی۔

پسنی شہر کے لئے عمانی گرانٹ سے بننے والی زیرِ تعمیر واٹر ٹینکی

پسنی شہر کے لئے اومانی گرانٹ سے بننے والی زیرِ تعمیر واٹر ٹینکی

اومانی گرانٹ سے پسنی واٹر سپلائی سسٹم کو بحال کرنا 3 حصوں پر مشتمل ہے۔ ان میں سے دو حصے مکمل ہونے کو ہیں : شادی کور ڈیم سے پسنی شہر تک پائپ لائنوں کی بچھائی مکمل ہو چکی ہے جو کہ مکمل طور پر انڈر گراؤنڈ بچھائے گئے ہیں۔ دوسرے پیکج میں انڈر گراؤنڈ واٹر ٹینکی کا کام بھی مکمل ہونے کو ہے۔ تیسرا حصہ سٹی ڈسٹری بیوشن سپلائی کا ہے جس پر پبلک ہیلتھ کے نمائندوں کے مطابق کام جاری ہے۔

ابتدائی پلان کے مطابق  اومانی گرانٹ سے بننے والے واٹر سپلائی سسٹم کو بھی 2012 میں مکمل ہو جانا چاہئے تھا مگر یہاں بھی فنڈز کی کمی پروجیکٹ کی تکمیل میں آڑے آ گئی ہے۔

تاریخی طور پر پسنی کو 'صوالی گورم' سے پانی سپلائی کیا جاتا تھا جو کہ ایک قریبی ندی ہے۔ مگر بارشیں نہ ہونے کی وجہ سے صوالی گورم اور قریب کے ندی نالوں میں پانی کے ذخائر ختم ہو چکے ہیں۔ اس سال گزشتہ تین مہینے سے صوالی گورم خشک ہے۔ سمندر سے قریب ہونے کی وجہ سے اس نالے میں سمندر کا پانی بھی مکس ہو رہا ہے جس کی وجہ سے ندی کا پانی استعمال کے قابل نہیں رہا۔

پسنی میں پانی کے بحران کے حوالے سے جب میں نے محکمہ پبلک ہیلتھ پسنی کے ایس ڈی او(SDO)  چنگیز گچکی سے پو چھا تو ان کا کہنا تھا کہ پسنی شہر میں زیرِ زمین ذخائر نہ ہونے کے برابر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت پسنی شہر کو 4کھلے کنوؤں (Open Surface Wells) سے پانی سپلائی کیا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پسنی شہر کی یومیہ پانی کی ضرورت 18 لاکھ گیلن ہے مگر محکمہ پبلک ہیلتھ روزانہ شہر کو 1سے 3 لاکھ گیلن پانی سپلائی کر رہا ہے۔

ان کے مطابق اس کی وجہ گرمی کا موسم اور پانی کےذرائع کی قلت ہے۔ جن 4 کنوؤں سے محکمہ شہر کو پانی سپلائی کر رہا ہے ، ان کا پانی گرمی کے موسم میں ڈیڈ لیول پر جا پہنچتا ہے۔ ڈیڈ لیول پر پہنچنے کی وجہ سے ہر کنوئیں میں روزانہ 50 سے 60 ہزار گیلن سے زیادہ کا پانی دستیاب نہیں ہو پاتا۔

پسنی میں چلنے والے غیر سرکاری واٹر ٹینکر عوام کو مہنگے داموں پانی فروخت کر رہے ہیں

پسنی میں چلنے والے غیر سرکاری واٹر ٹینکر عوام کو مہنگے داموں پانی فروخت کر رہے ہیں

پسنی شہر میں پانی کی مسلسل ترسیل ہر 20 دن کے بعد صرف 2 سے  3 گھنٹے کے لئے ہوتی ہے ۔ چنگیز گچکی کے مطابق ایسا اس لئے ہے کیونکہ شہر کی آبادی میں اضافے کے ساتھ پانی کی طلب میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے جبکہ پانی کی سپلائی میں کمی واقع ہوئی ہے۔

پانی کے اس بحران میں چونکہ عوام کو محکمہ پبلک ہیلتھ کی جانب سے پانی کی ترسیل میں شدید کمی ہے، ایسے میں عوام ٹینکر مافیا سے مہنگے داموں پانی خریدنے پر مجبور ہیں۔ شہر میں فی ٹینکر پانی 5 ہزار  روپے میں فروخت ہو رہا ہے۔ غریب آدمی اس قدر مہنگے داموں پانی خریدنے سے قاصر ہے۔

ایسے میں اس امر کی اشد ضرورت ہے کہ شادی کور ڈیم کو ہنگامی بنیادوں پر مکمل کیا جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ اومانی گرانٹ سے بننے والے واٹر سپلائی سسٹم کو بھی فوری مکمل کیا جائے تاکہ پانی کی اس شدید بحران کا خاتمہ ہو سکے۔ ان پروجیکٹ کی تکمیل میں جو عوامل اور مسائل رکاوٹ بنے ہوئے ہیں، صوبائی حکومت کا فرض ہے کہ ان کا خاتمہ کرے۔