پسنی میں مسلسل لوڈ شیڈنگ، شدید گرمی کی لہر، عوام پریشان

پسنی میں دوپہر کا ایک منظر

پسنی میں دوپہر کا ایک منظر

گزشتہ کچھ دنوں سے گرمی کی شدید لہر نے پورے ملک کو لپیٹ میں لے رکھا ہے۔ گرمی کی اس لہر سے مکران کے بہت سے علاقے بھی شدید متاثر ہیں اور ہر روز درجہ حرارت 40 ڈگری سے بھی بڑھ جاتا ہے۔

اس سب کے دوران پچھلے دنوں مند، بلوچستان کے مقام پر کھمبے گرنے سے ایران سے آنے والی بجلی میں تعطل آیا جس کے بعد سے مکران کی آبادی کو بجلی کے شدید بحران کا سامنا ہے۔ اس کے باوجود کہ مکران کے زیادہ تر علاقوں کو بجلی کی سپلائی ایران سے آتی ہے، یہاں کی آبادی کو بہت عرصے سے لوڈ شیڈنگ کا سامنا ہے، جس کا ذمہ دار صوبائی حکومت اور اس کے اہلکاروں کی نا اہلی کو ٹھہرایا جاتا ہے۔

جیوانی میں بی این پی مینگل اور بی این بی عوامی کا احتجاج

جیوانی میں بی این پی مینگل اور بی این بی عوامی کا احتجاج

پسنی میں بھی بجلی کی شدید قلت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ زمضان کے مہینے میں جہاں موسم غیر معمولی طور پر گرم ہے، دن کا زیادہ تر حصہ بجلی کے بغیر گزرتا ہے جس پر مقامی مکینوں نے بار ہا احتجاج کیا ہے۔ پچھلے دنوں بی این پی مینگل اور بی این پی عوامی نے جیوانی میں پہیہ جام ہڑتال کر کے لوڈ شیڈںگ کے خاتمے کا مطالبہ کیا مگر صورتِ حال جوں کی توں ہے۔

اس سب میں صوبائی حکومت کی طرف سے مسائل کے حل میں کوئی دلچسپی نہیں لی جا رہی۔ نہ عوام کو بجلی کی قلت کی وجوہات بتائی جا رہی ہیں اور نہ ہی ان وجوہات کو دور کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔