اسٹولا جزیرہ کی ہزاروں سالہ تاریخ اور اہمیت

جزیرے پر موجود پہاڑی اونچائی سےاسٹولا کا ایک منظر

جزیرے پر موجود پہاڑی اونچائی سےاسٹولا کا ایک منظر

مکران کے ساحلی علاقے تاریخی، جغرافیائی اور عسکری حوالے سے نہایت اہمیت کے حامل ہیں۔ مکران کے ساحلی علاقوں کو ایشیاء کا گیٹ وے کہا جاتا ہے۔ ان علاقوں میں معدنی اور قدرتی وسائل موجود ہیں۔ بلوچستان کے ساحل کے ساتھ ماحولیاتی حوالے سے بھی انتہائی اہم علاقہ جات ہیں جن میں میانی ہور اور گنز خلیج کے علاوہ پسنی کے قریب سمندر میں واقع جزیرہ 'اسٹولا' شامل ہیں۔ یہ جزیرہ بہت سے نایاب سمندری جانوروں اور پرندوں کا مسکن ہے۔

اسٹولا جزیرہ 6.7 کلومیٹر رقبے پر محیط ہے۔ اس کی لمبائی 2 کلومیٹر اور چوڑائی 2.3 کلومیٹر ہے۔ چونکہ اس پر اونچا ترین مقام سطح سمندر سے 246 فٹ بلند ہے اس وجہ سے سے اس پر انسانی آبادی کا قیام ممکن ہے۔

یہ جزیرہ مکران کے ساحلی شہر سے 39 کلومیٹر مشرق کی جانب بحرِ بلوچ میں واقع ہے اور پاکستان کا سب سے بڑا جزیرہ گردانا جاتا ہے۔ اسٹولا جزیرے کو مقامی لوگ 'ہفت تلار' کے نام سے پکارتے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ یہ جزیرہ ہزاروں سال پرانا ہے۔ پانچویں صدی عیسوی کے معروف یونانی مؤرخ 'ہیروڈوٹس' نے اپنی تواریخ میں مکران کا ذکر کرتے ہوئے اس ساحل کے قریب چار جزیروں کی نشاندہی کی ہے۔ قیاس کیا جاتا ہے کہ جن چار جزیروں کی ہیروڈوٹس نے نشاندہی کی ہے، اس میں سے تین سمندر برد ہو چکے ہیں جبکہ اسٹولا چوتھا جزیرہ ہے جو آج بھی موجود ہے۔

یونانی تاریخ میں غالبا مکران کے جس جزیرے کو 'نوسالا' کہا گیا ہے، وہ آج کا اسٹولا ہے۔ یونانیوں کے مطابق اس جزیرے پر دیوی 'افریدس' کا گھر تھا اور جب بھی کوئی کشتی جزیرے کے قریب سے گزرتی تو افریدس کشتی پر موجود لوگوں کو مچھلی بنا کر سمندر میں چھوڑ دیتا تھا۔

دورے سے اسٹولا جزیرے کا ایک منظر

دورے سے اسٹولا جزیرے کا ایک منظر

تاریخ میں ایک اور روایت ہے کہ سکندرِ اعظم کی مکدونیائی بحری فوج جب یہاں پہنچی تو اس فوج کے سربراہ کے مطابق اس جزیرے میں بیش بہا قیمتی ہیرے اور جواہرات موجود ہیں۔ اس کے بعد مصر، یونان سے بڑی تعداد میں بیوپاریوں نے جزیرہ اسٹولا کا رخ کر لیا لیکن وہ ناکام ہو کر واپس چلے گئے۔

اگرچہ ہیرے جواہرات کا قیاس ناقص سہی، مگر آج کے دور میں ماہرین کا ماننا ہے کہ بلوچستان کے ساحلی علاقوں کے سمندر میں تیل و گیس کے وافر ذخائر موجود ہیں جو کہ مکران کے ساحل سے لے کر خلیج فارس تک جاتے ہیں۔ سمندر میں لاوا پھٹنے اور جزیرے نمودار ہونے کی ایک وجہ یہ ذخائر بھی ہیں۔

اسٹولا جزیرے کے بارے میں یہ بھی کہا جاتا ہے کہ یہ جزیرہ ایک زمانے میں باقاعدہ بیرونی زمین کا حصہ تھا اور ایک طاقت ور زلزلے کے بعد جدا ہو کر سمندر میں جا بسا۔ اس روایت سے ملحقہ یہ رائے بھی ہے کہ پسنی کے شمال میں سمندر کے کنارے 'ذرین' نامی پہاڑ کو اسٹولا کا بچھڑا ہوا حصہ مانا جاتا ہے۔

عرب اسٹولا جزیرے کو 'استالو' کے نام سے جانتے ہیں جبکہ ہندو روایت میں اس کا نام 'ستادیپ' ہے۔ ہندو مذہب سے تعلق رکھنے والوں کا ماننا ہے کہ مہا کالی یعنی بھوانی کا مندر اس جزیرے پر تھا اور مہا کالی ہر روز نہانے کے لئے یہاں سے ہنگلاج جاتے تھے (ہنگلاج میں ہندوؤں کا مندر 'نانی پیر' ہے جو کہ بلوچستان کے ضلع لسبیلہ کے علاقے ہنگول میں واقع ہے۔ یہاں ہنگول دریا بھی بہتا ہے۔ ہنگلاج میں ہر سال ہزاروں ہندو یاتری زیارت کے لئے آتے ہیں۔ ہندوؤں کا یہ بھی ماننا ہے کہ مہا کالی دراصل نانی پیر نامی عبادت گزار خاتون کو دیکھنے کے لئے جزیرہ اسٹولا سے ہنگلاج جاتے تھے۔)

اسٹولا کے ساحل پر موجود حضرت خضر کا مزار

اسٹولا کے ساحل پر موجود حضرت خضر کا مزار

جزیرے پر ساحل کے راستے داخل ہوتے ہی سامنے حضرت خضر کا مزار ہے جنہیں زندہ پیر بھی کہا جاتا ہے۔ کچھ لوگوں کا یہ ماننا ہے کہ حضرے خضر طوفان کے دوران ماہی گیروں کی حفاظت کرتے ہیں۔

اسٹولا جزیرے کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہاں آبی پرندے وافر مقدار میں پائے جاتے ہیں اور یہ تیرنے والے پرندوں کا مسکن تصور کیا جاتا ہے۔ اسٹولا جزیرہ چونکہ ایک درمیانے درجے کا جزیرہ ہے اس لئے بحرِ بلوچ میں اگر اچانک کوئی ناگہانی سمندری طوفان اٹھے تو یہ جزیرہ ماہی گیروں کے لئے کشتیاں لنگر انداز کرنے کے حوالے سے ایک محفوظ پناہ گاہ ہے۔

اسٹولا جزیرہ کے ساحل پر سبز کچھوے (Green turtle) اور ہاک بل کچھوے (Hawkbill turtle) بڑی تعداد میں پائے جاتے ہیں۔ یہ کچھوے اسٹولہ کو ساحل پر انڈے دیتے ہیں اور یہ جگہ ان کے لئے ایک محفوظ مسکن ہے۔

اسٹولا کے ساحل پر ایک گرین ٹرٹل

اسٹولا کے ساحل پر ایک گرین ٹرٹل

ماہرِ حیاتیات کا کہنا ہے کہ اسٹولا جزیرہ Coral reef کا گھر ہے جو کہ مختلف قسم کی آبی حیات کے لئے بہت ضروری ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ جزیرہ آبی جانوروں اور پرندوں کی بہت سی نایاب اقسام کا گڑھ ہے۔ سردیوں میں یہاں سائبیریا سے نقل مکانی کر کے آنے والے پرندے بھی بڑی تعداد میں نظر آتے ہیں۔

جزیرے کے قریب ماہی گیر اکثر شکار کر کے رات اسٹولا کے ساحل ہر گزارتے ہیں۔ مگر بعض ماہرین کی اس حوالے سے رائے ہے کہ جزیرے کے قریب ماہی گیروں کے جال کچھوؤں کے لئے نقصان دہ ہیں اور ان کی نسل کی افزائش خطرے میں ڈال سکتے ہیں۔ کچھوؤں کی نسل کی افزائش یقینی بنانے کے لئے ضروری ہے کہ جزیرے کے قریب شکار نہ کیا جائے اور جزیرے کے قریب جال کے ٹکڑے صاف کئے جائیں۔

اسٹولا جزیرہ اس لحاظ سے بھی اہمیت کا حامل ہے کہ یہ ایک سیاحتی مقام ہے جہاں سیاح سیر کرنے اور ریسرچ کرنے اکثر آتے رہتے ہیں۔ حکومت کو چاہئیے کہ جزیرے پر سیاحتی سرگرمیوں کے فروغ کے لئے اقدامات کرے مگر سیاحت یا کسی قسم کی کوئی اور سرگرمی کا انتظام کرتے ہوئے اس چیز کا خیال رکھا جائے کہ جزیرہ کے قدرتی حسن اور اس پر موجود آبی حیات اور پرندوں کو کوئی نقصان نہ پہنچے۔